ہارورڈ بزنس ریویو میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں ماہرین نے ملازمین پر موجود ذہنی بوجھ کا جائزہ لیا ہے۔ ادارے عموماً کام کے بوجھ کا اندازہ اُن ظاہری پیمانوں سے لگاتے ہیں جو آسانی سے نظر آتے ہیں، مثلاً کام کے اوقات، آخری تاریخیں، اہداف اور نتائج۔ تاہم ایک اہم بوجھ اکثر نظروں سے اوجھل رہتا ہے، اور وہ ہے وہ ذہنی بوجھ جسے ملازمین مسلسل اٹھا رہے ہوتے ہیں۔
ذہنی بوجھ سے مراد وہ مسلسل ذہنی اور جذباتی کوشش ہے جو درج ذیل امور میں صرف ہوتی ہے:
نامکمل کاموں کو یاد رکھنا اور اُن کی پیروی کرنا –
لوگوں، شیڈولز اور ذمہ داریوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا –
مسائل پیش آنے سے پہلے اُن کا اندازہ لگانا –
کام کی جگہ پر تعلقات اور جذبات کو سنبھالنا –
مختلف اور باہم متصادم ترجیحات کے درمیان مسلسل توجہ تبدیل کرنا –
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو دیکھ بھال اور خاندانی تقاضوں کے ساتھ متوازن رکھنا –
یہ غیر مرئی کام ملازمین کی توجہ کو منتشر کر دیتا ہے اور بتدریج اُن کی توجہ مرکوز کرنے، فیصلے کرنے اور تخلیقی انداز میں کام کرنے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے۔ بظاہر ملازمین بدستور مؤثر اور نتیجہ خیز دکھائی دے سکتے ہیں، لیکن اندرونی طور پر وہ شدید تھکن، کام سے لاتعلقی، ذہنی و جسمانی دباؤ اور ملازمت چھوڑنے کے بڑھتے ہوئے خطرے کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔
مضمون ایک اہم قائدانہ سبق کی نشاندہی کرتا ہے: ملازمین میں شدید ذہنی تھکن کم کرنے کا مطلب صرف کام کی مقدار کم کرنا نہیں، بلکہ اس بات پر دوبارہ غور کرنا بھی ہے کہ کام کو کس طرح منظم، تقسیم اور تفویض کیا جاتا ہے۔
قائدین درج ذیل اقدامات کر سکتے ہیں:
ذمہ داریوں اور کام کی ملکیت کو واضح طور پر متعین کرنا –
غیر ضروری رابطہ کاری اور بار بار فالو اَپ کو کم کرنا –
ترجیحات اور فیصلہ سازی کے اختیار کو واضح بنانا –
یہ جانچنا کہ کون لوگ مسلسل ایسا جذباتی اور انتظامی کام کر رہے ہیں جسے تسلیم نہیں کیا جاتا –
دفتری معاونتی کاموں اور پسِ پردہ ذمہ داریوں کو منصفانہ طور پر تقسیم کرنا –
ایسے نظام تشکیل دینا جو ملازمین کے حافظے اور ہر وقت دستیاب رہنے پر انحصار کم کریں –
کام کے بوجھ پر گفتگو کی حوصلہ افزائی کرنا اور اسے کمزوری کی علامت نہ سمجھنا –
قیادت کو صرف یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے:
“اس ملازم کے پاس کتنا کام ہے؟”
بلکہ یہ بھی پوچھنا چاہیے:
“اس کام کو مکمل کرنے کے لیے اسے کتنا کچھ یاد رکھنا، پیشگی اندازہ لگانا، ہم آہنگ کرنا اور جذباتی طور پر سنبھالنا پڑتا ہے؟
”
غیر مرئی کام کو پہچاننا اور اسے منصفانہ طور پر دوبارہ تقسیم کرنا صرف ملازمین کی فلاح و بہبود کا اقدام نہیں ہے۔ یہ پائیدار کارکردگی، ملازمین کی وابستگی، شمولیت اور قابل افراد کو ادارے میں برقرار رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
حوالہ:
Ruppanner, L., Swenson, H., Mangino, K., Stuart, H. C., Smith, D. G., & Dickens, M. (2026, July 24). The Invisible Work Draining Your Best Employees. Harvard Business Review.
Recent Comments